مذکورہ شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں:
مذکورہ شرائط کا قربانی کے پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں بلکہ وقت وجوب کے آخری جزء میں بھی اگر یہ شرطیں پائی گئیں تو اس پر قربانی واجب ہے۔ یعنی اگر ۱۲ ذی الحجہ کی شام میں غروب آفتاب سے ذرا پہلے کوئی کافر مسلمان ہوگیا، یا مسافر وطن پہنچ گیا، یا غلام آزاد ہوگیا، یا بچہ بالغ ہوگیا، مجنون کو صحت ہوگئی، یا فقیر صاحب نصاب بن گیا تو ان پر قربانی واجب ہوگئی۔ اس میں مرد و زن کا حکم یکساں ہے (بدائع الصنائع، 5/64)۔
آخر وقت میں کوئی شرط فوت ہوگئی:
اگر ابتداء ایام اضحیہ میں کسی پر قربانی واجب تھی مگر آخر میں کوئی شرط فوت ہوگئی تو قربانی واجب نہیں رہی۔ مثلاً: مالدار تنگ دست ہوگیا یا مقیم مسافر بن گیا تو ان پر قربانی واجب نہیں رہی۔ (حاشية ابن عابدين، 6/315)۔
فقیر قربانی کے بعد مالدار ہوگیا:
اگر کسی فقیر نے قربانی کردی، پھر آخر وقت میں مالدار ہوگیا، یعنی بقدر نصاب مال اسے حاصل ہوگیا تو راجح قول کے مطابق اس پر نئے سرے سے قربانی کرنا واجب نہیں۔ (حاشية ابن عابدين،6/316)۔
حاجی مسافر ہو تو قربانی واجب نہیں:
اگر کسی شخص کا قیام مکہ مکرمہ میں منیٰ کے 4، 5 دنوں کو ملاکر 15 دن یا اس سے زیادہ ہو تو وہ مقیم ہے۔ اگر وہ صاحب نصاب ہے تو اس پر قربانی واجب ہے، جسے وہ وہاں بھی ادا کرسکتا ہے اور اپنے وطن میں کسی کو وکیل بناکر بھی ادا کرسکتا ہے اور اگر مکہ مکرمہ میں قیام 15 دن سے کم ہو، پھر مدینہ منورہ جانا ہو یا وطن واپس لوٹنا ہو تو وہ مسافر ہے، اس پر قربانی واجب نہیں۔
ملحوظہ: اب چونکہ منیٰ مکہ مکرمہ کا حصہ ہوگیا، اس لیے منیٰ میں قیام کے دن شامل کرکے مقیم یا مسافر ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مندرجہ بالا مسئلہ اسی تبدیل شدہ صورتِ حال پر مبنی ہے۔ واضح رہے کہ حج تمتع و قران کرنے والے پر بطور شکر الگ قربانی واجب ہوتی ہے جس کا وہیں کرنا ضروری ہوتا ہے (حاشية ابن عابدين، 2/515
