ڈیبٹ کارڈ

بعض اوقات بینک ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے پر ڈسکاؤنٹ دیتا ہے، جیسے ریسٹورنٹ یا خریداری پر 20% 30%ڈسکاونٹ ، کیا اس ڈسکاونٹ کو استعمال کرنا جائز ہے؟

 نوٹ: میرے پاس دو اکاؤنٹس ہیں ایک میزان بینک میں اور دوسرا حبیب میٹرو بینک میں ،کسی بھی اکاؤنٹ میں کوئی سودی لین دین نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

غیر سودی بینک جو مستند علماء اور مفتیانِ کرام کے زیر نگرانی کام کرتے ہیں ان کے ڈیبٹ کارڈ پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کا استعمال تو حلال ہے،چاہے ڈسکاؤنٹ بینک کی جانب سے ہو یا اس ادارے کی جانب سے جس سے خریداری کا معاملہ کیا جارہا ہے،سیونگ اکاؤنٹ ہونے کی صورت میں تو اس لئے کہ اس میں بینک اور صارف کے تعلق کا مدار مضاربت،شرکت یا وکالت بالاستثمار پر ہوتا ہے،قرض پر نہیں،لہذا اسے قرض پر نفع نہیں قرار دیا جاسکتا،جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ کی صورت میں اگرچہ بینک اور صارف کا تعلق قرض کی بنیاد پر ہوتا،لیکن درج ذیل وجوہ سے پھر بھی اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے:

1۔یہ ڈسکاؤنٹ مشروط نہیں ہوتا،یعنی اکاؤنٹ کھلواتے وقت اس قسم کی آفر دینے کی کوئی شرط نہیں ذکر کی جاتی،بلکہ بینک ایسی آفر دینے میں بااختیار ہوتا ہے۔

2۔ یہ ڈسکاؤنٹ تمام ڈیبٹ کارڈ ہولڈر صارفین کے لئے ہوتا ہے،چاہے ان کا کرنٹ اکاؤنٹ ہو یا سیونگ،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سہولت قرض کی بنیاد پر نہیں،بلکہ بینک کا کسٹمر ہونے کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔

جبکہ سودی بینکوں کے ڈیبٹ کارڈ (Debit Card)کے استعمال پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کے جائز اور ناجائز ہونےکی تفصیل درج ذیل ہے :

1۔ اگر ڈسکاؤنٹ  مکمل طور پر بینک کی طرف سے ہو، تو اس صورت میں اس رعایت کا حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہوگا، کیوں کہ یہ رعایت بینک کی طرف سے کارڈ ہولڈر کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی وجہ سے مل رہی ہے، جو شرعاً قرض کے حکم میں ہے اور جو فائدہ قرض کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے، وہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔

2۔ اگر اس ادارے کی جانب سے ہو، جہاں سے کچھ خریدا گیا ہے یا وہاں کھانا کھایا گیا ہے، تو یہ اس ادارے کی طرف سے تبرع و احسان ہونے کی وجہ سے جائز ہوگا۔

3۔ اگر ڈسکاؤنٹ مشترکہ طور پر دونوں کی طرف سے ہو، تو بینک کی طرف سے دی جانے والی رعایت کا حصول جائز نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ میزان بینک غیر سودی ہے،جبکہ حبیب میٹرو سودی بینک ہے۔

حوالہ جات

“بدائع الصنائع ” (7/ 395):

“(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب “.

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

02/ذی الحجہ1444ھ

Similar Posts

  • اتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے ایک چلتی ہوئی دکان کرایہ پر لی۔ دکان کا مالک شہزاد تھا۔ اس نے 5 لاکھ روپے ایڈوانس لیے اور ماہانہ 60 ہزار روپے کرایہ طے ہوا۔ حالانکہ اس لائن میں اسی نوعیت کی دکانوں کا کرایہ 80 ہزار روپے سے کم…

  • موجودہ دور میں زکات کا نصاب کیا ہے؟

    سوال موجودہ دور میں زکات کا نصاب کیا ہے؟ سونے کی مقدار کیا ہےاور چاندی کی مقدار کیا ہو گی؟ جواب زکات کے نصاب کی تفصیل یہ ہے: اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، اور صرف چاندی ہو تو  ساڑھے باون تولہ چاندی،  یا دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت…

  • قربانی کا وقت

    قربانی کا وقت: شہر اور دیہات میں فرق: شہر والوں کے لیے قربانی کا وقت ۱۰ ذی الحجہ کو نمازِ عید کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور دیہات والوں کے لیے صبح صادق سے شروع ہوجاتا ہے۔ اختتام میں کوئی فرق نہیں، دونوں کے لیے ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک وقت رہتا ہے۔ چنانچہ دیہات والے…

  • شرائط وجوب قربانی

    شرائط وجوب ِقربانی: قربانی چھ شرطوں سے واجب ہوتی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں: 1:۔مسلمان ہونا، غیرمسلم پر قربانی نہیں۔ 2:۔ مقیم ہونا، مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ 3:۔ آزاد ہونا، غلام پر قربانی واجب نہیں۔ 4:۔ تو نگری یعنی صاحب نصاب ہونا، مسکین پر قربانی نہیں ۔(الفتاوي الهندية، 5/292) 5 :۔ بالغ ہونا، نابالغ پر…

  • جائز و ناجائزامور کا بیان 90189 جائز و ناجائزامور کا بیان جائز و ناجائز کے متفرق مسائل سوال ایک شخص کو اس کے والدین نے موبائل استعمال کرنے سے منع کیا تھا، حالانکہ موبائل اسی کی ملکیت ہے۔ اس نے والدین کے سامنے بھی موبائل استعمال کیا، لیکن بعد میں انہوں نے اس پر کوئی…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *