شرکاء میں سے ہر ایک کا صحیح العقیدہ مسلمان ہونا ضروری ہے:

شرکاء میں سے ہر شریک کا صحیح العقیدہ مسلمان ہونا قربانی کی صحت کے لیے شرط ہے۔ اگر کوئی ایک شریک بھی ایسا ہو جس کا عقیدہ صحیح نہ ہو بلکہ کفریہ یا شرکیہ ہو تو کسی شریک کی بھی قربانی صحیح نہ ہوگی۔  اس لیے اچھی طرح اطمینان کرلینا چاہیے کہ ہر شریک صحیح العقیدہ مسلمان ہے۔(الفتاوي الهندية، 5/304)۔

صحیح العقیدہ مسلمان وہ ہے جو تمام ضروریات دین پر ایمان و اعتقاد رکھتا ہو ۔(المسامرة، 1/285)۔

ضروریاتِ دین وہ ہیں جن کا ثبوت قطعی و یقینی ہو اور ان کا دین ہونا مشہور و معروف ہو۔ اس لیے دین کے کسی بھی امر قطعی و بدیہی کے منکر کے ساتھ قربانی نہ کی جائے مثلاً:

1:۔عقیدہ ختم نبوت کے منکرین          2:۔منکرین حدیث  3:۔وہ شخص جو قرآن مجید میں تحریف کا قائل ہو یا ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا پر تہمت لگاتا ہو یا حضرات شیخین حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کو نعوذ باﷲ مرتد کہتا ہو۔      4:۔ مشرک یعنی ﷲ تعالیٰ کی ذات یا کسی صفت میں مخلوق کو شریک ٹھہرانے والا مثلاً غیر ﷲ کو مختار کل یا نفع و نقصان کا مالک یا بلاواسطہ بذات خود عالم الغیب یا علم غیب کلی کے ساتھ سمجھنے والا۔

مندرجہ بالا عقائد رکھنے والوں کا ذبیحہ بھی حرام ہے۔ ان سے ذبح نہ کرائے ورنہ قربانی نہیں ہوگی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *