محرم الحرام میں شادی کا ھکم

محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم

اوپر ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اس ماہِ مبارک میں سوگ کرنا بالکلیہ بے اصل اور دین کے نام پر دین میں زیادتی ہے، جس کا ترک لازم ہے، لہٰذا جب سوگ جائز نہیں ہے تو پھر شرعاً اس مہینے میں شادی کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے، بلکہ عجیب بات تو یہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی اسی ماہِ مبارک میں ہوئی۔ (ملاحظہ ہو: تاریخ مدینۃ الدمشق لابن عساکر، باب ذکر بنیہ وبناتہ علیہ الصلاۃ والسلام وأزواجہ، ج: ۳، ص:۱۲۸، دار الفکر۔ تاریخ الرسل والملوک للطبری، ذکر ما کان من الأمور فی السنۃ الثانیۃ، غزوۃ ذات العشیرۃ، ج:۲، ص:۴۱۰، دار المعارف بمصر)

اس مہینے میں شادی نہ ہونے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اس مہینے میں نحوست ہے، جب کہ شرعاً یہ بات بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہے، بلکہ یہ عقیدہ یا ذہن رکھنا ہی گناہ ہے، اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی دن یا زمانے میں کسی قسم کی نحوست نہیں رکھی گئی۔ اکابرین مفتیانِ عظام کے فتاویٰ میں اس کی تصریحات موجود ہیں، ذیل میں فتاویٰ رحیمیہ سے اسی مسئلے کا جواب نقل کیا جاتا ہے:

’’(الجواب): ماہ محرم کو ماتم اور سوگ کا مہینہ قرار دینا جائز نہیں، حدیث میں ہے کہ عورتوں کو ان کے خویش واقارب کی وفات پر تین دن ماتم اور سوگ کرنے کی اجازت ہے اور اپنے شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ منانا ضروری ہے، دوسرا کسی کی وفات پر تین دن سے زائد سوگ منانا جائز نہیں ، حرام ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:

’’ لا یحل لامرأۃ تؤمن باللّٰہ والیوم الآخر أن تحد علی میت فوق ثلٰث لیال إلا علٰی زوج أربعۃ أشھر وعشراً۔‘‘

(بخاری، باب: تحد المتوفی عنھا أربعۃ أشھر وعشراً إلخ، ص: ۸۰۳، ج:۲)

ترجمہ: ’’جو عورت خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھے، اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی کی موت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے، مگر شوہر اس سے مستثنیٰ ہے کہ اس کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ کرے۔‘‘  

ماہِ مبارک محرم میں شادی وغیرہ کرنا نامبارک اور ناجائز سمجھنا سخت گناہ اور اہل سنت کے عقیدے کے خلاف ہے۔ اسلام نے جن چیزوںکو حلال اور جائز قرار دیا ہو، اعتقاداً یاعملًا ان کو ناجائز اور حرام سمجھنے میں ایمان کا خطرہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ خوب احتیاط برتیں، ان رسومات سے علیحدہ رہیں، اس لیے کہ ان میں شرکت حرام ہے۔

’’مالابد منہ‘‘ میں ہے: ’’مسلم تر اتشبہ بہ کفار وفساق حرام است۔‘‘ یعنی:’’ مسلمانوںکو کفار وفساق کی مشابہت اختیار کرنی حرام ہے۔‘‘                                   (ص: ۱۳۱)

ماہ مبارک میں شادی وغیرہ کے بارے میں دیوبندی اور بریلوی میں اختلاف بھی نہیں ہے۔ مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی کا فتویٰ پڑھیے:

’’(سوال) بعض سنی جماعت عشرۂ محرم میں نہ تو دن بھر میں روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔ ۲: ان دس دن میں کپڑے نہیں اتارتے۔ ۳:ماہِ محرم میں کوئی بیاہ شادی نہیں کرتے، اس کا کیا حکم ہے؟ (الجواب) تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔‘‘          (احکام شریعت، ص: ۹۰، ج:۱)  فقط واللہ اعلم بالصواب۔‘‘      (فتاوی رحیمیہ، کتاب البدعۃ والسنۃ،ج:۲،ص:۱۱۵، دارالاشاعت، کراچی )

اسی طرح فتاویٰ حقانیہ (کتاب البدعۃ والرسوم،محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم؟ ج:۲، ص:۹۶، جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک)میں بھی موجود ہے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کے منکرات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور افراط وتفریط سے بچتے ہوئے صراطِ مستقیم پر گامزن رکھے، آمین ۔

Similar Posts

  • جائز و ناجائزامور کا بیان 90189 جائز و ناجائزامور کا بیان جائز و ناجائز کے متفرق مسائل سوال ایک شخص کو اس کے والدین نے موبائل استعمال کرنے سے منع کیا تھا، حالانکہ موبائل اسی کی ملکیت ہے۔ اس نے والدین کے سامنے بھی موبائل استعمال کیا، لیکن بعد میں انہوں نے اس پر کوئی…

  • کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دو بھائی ہیں اور دونوں کا واہ کینٹ میں مشترکہ گھر ہے،جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ پلاٹ کی زمین کی قیمت آدھی بڑے بھائی نے ادا کی جبکہ آدھی قیمت چھوٹے بھائی نے ادا کی۔ عمارت کی تعمیر میں تمام خرچہ…

  • عاشوراء کے دن کیا کیا جائے

    یومِ عاشوراء میں کیاکیا جائے؟عاشوراء کے موقع سے لوگوں نے بہت سی واہی تباہیں باتیں ایجاد کر رکھی ہیں۔ لیکن علامہ ابن تیمیہ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں نہ حضرت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے کوئی صحیح حدیث وارد ہوئی ہے اور نہ کسی صحابی سے(کوئی اثر)۔ اسے ائمہ…

  • ہبہ شدہ جانور کی قربانی کاحکم

    ہدیہ ملے جانور کی قربانی کا حکم سوال اگر میں نے زید کو قربانی کا جانور خرید کر دیا  اس حال میں کہ زید خود   بھی صاحب نصاب تھا، توکیا زید کے لیے  اس جانور کی قربانی کرنا  درست ہوگا۔برائے مہربا نی جواب مع حوالہ دیں۔ جواب واضح رہے کہ جو شخص أيام نحر میں…

  • اتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے ایک چلتی ہوئی دکان کرایہ پر لی۔ دکان کا مالک شہزاد تھا۔ اس نے 5 لاکھ روپے ایڈوانس لیے اور ماہانہ 60 ہزار روپے کرایہ طے ہوا۔ حالانکہ اس لائن میں اسی نوعیت کی دکانوں کا کرایہ 80 ہزار روپے سے کم…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *