اجتماعی قربانی میں گوشت کس طرح تقسیم کریں
مسئلہ: اجتماعی قربانی کا گوشت کس طرح تقسیم کیا جائے؟ ترازو سے یا اندازہ سے؟
سب شرکاء یا کوئی ایک شریک قربانی کے گوشت میں سے اپنا حصہ وصول کرنا چاہتا ہے تو قربانی کا گوشت اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں، وزن کرکے برابر برابر تقسیم کرنا ضروری ہے، ورنہ ایسا کرنا گوشت کے بدلے گوشت لینے کا عمل ٹھہرے گا، اگر کسی حصہ میں کمی بیشی ہوگی تو سود ہوجائے گا اور سود لینا، دینا، کھانا سب حرام ہے۔ البتہ اگر گوشت کے ساتھ سری پائے اور کھال کو بھی شریک کرلیا جائے تو جس طرف مذکورہ چیزیں ہوں اس طرف اگر گوشت کم ہو تو درست ہے۔
نیز اگر قربانی میں شریک تمام افراد اس بات پر رضامند ہیں کہ گوشت کو تقسیم نہ کیا جائے، بلکہ ایک جگہ پکاکر کھایا جائے یا صدقہ کردیا جائے تو یہ جائز ہے، تقسیم کی ضرورت نہیں، لیکن اگر ان میں سے کو ئی بھی ایک حصہ دار اس کے خلاف ہو اور وہ اپنا حصہ تقسیم کرکے لینا چاہے تو تقسیم کرنا ضروری ہوگا، گوشت کو وزن کے ذریعہ سے تقسیم کرنا ضروری ہوگا، اندازے سے تقسیم کرنا درست نہیں۔ چاہے سب شرکاء راضی ہوں تب بھی گوشت کو ترازو سے تقسیم کرنا ضروری ہوگا۔ (فتویٰ نمبر: 10038
