محرم الحرام میں سوگ کا حکم
محرم الحرام میں سوگ کرنے کا حکم
ایک اور چیز جس کا رواج عام طور پر بہت زیادہ ہو چکا ہے کہ یہ مہینہ غم کا مہینہ ہے، اس مہینے میں خوشی نہیں منانی چاہیے، کیوں؟! اس لیے کہ اس مہینے میں نواسۂ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان کے چھوٹوں اور بڑوں کو ظالمانہ طور پر نہایت بے دردی سے شہید کر دیا گیا، ان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لیے غم منانا، سوگ کرنا اور ہر خوشی والے کام سے گریز کرنا ضروری ہے، سوچنا تو یہ ہے کہ ہمیں اس بارے میں شریعت کی طرف سے کیا راہنمائی ملتی ہے؟؟!!
اس بارے میں سب سے پہلے علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ کا ایک قول ملاحظہ کرتے ہیں :
’’فکل مسلمٍ ینبغی لہ أن یُحزنہٗ ھذا الذی وقع من قتلہ رضی اللّٰہ عنہ، فإنہ من سادات المسلمین وعلماء الصحابۃؓ، وابن بنت رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و سلم التی ھی أفضل بناتہ، وقد کان عابداً وشجاعاً وسخیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وقد کان أبوہ أفضل منہ، وھم لا یتخذون مقتلہ مأتَماً کیوم مقتل الحسینؓ، فإن أباہ قتل یوم الجمعۃ وھو خارج إلی صلاۃ الفجر فی السابع عشر من رمضان سنۃ أربعین، وکذالک عثمانؓ کان أفضل من علیؓ عند أھل السنۃ والجماعۃ، وقد قتل وھو محصور فی دارہٖ فی أیام التشریق من شھر ذی الحجۃ سنۃ ست وثلاثین، وقد ذُبح من الورید إلی الورید، ولم یتخذِ الناسُ یوم مقتلہ مأتمًا، وکذالک عمرؓ بن الخطاب، وھو أفضل من عثمانؓ وعلیؓ، قتل وھو قائم یصلی فی المحراب صلاۃ الفجر، وھو یقرأ القرآن، ولم یتخذ الناس یوم مقتلہ مأتما، ورسول اللّٰہ ﷺ سید ولد آدم فی الدنیا والآخرۃ، وقد قبضہ اللّٰہ إلیہ کما مات الأنبیاء قبلہ، ولم یتخذِ أحد یوم موتہٖ مأتما‘‘۔
(البدایۃ والنھایۃ، سنۃ إحدی وستین، فصل: فی الإخبار بمقتل الحسین بن علی رضی اللہ عنہ، ج:۱۱، ص:۵۷۹،دار الھجر للطباعۃ والنشر والتوزیع)
’’ہر مسلمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ اس کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ غمگین کر دے، اس لیے کہ وہ مسلمانوں کے سردار اور اہلِ علم صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تھے۔ آپ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سب سے افضل لختِ جگر کے بیٹے یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے نواسے تھے، آپ عبادت کرنے والے، بڑے بہادر اور بہت زیادہ سخی تھے۔ آپ کے والد(حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ) آپ سے زیادہ افضل تھے، اُن کو چالیس ہجری سترہ رمضان جمعہ کے دن جب کہ وہ اپنے گھر سے نمازِ فجر کے لیے تشریف لے جا رہے تھے‘ شہید کر دیاگیا، اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ سے افضل ہیں، جنہیں چھیالیس ہجری عید الاضحی کے بعد انہی کے گھر میں شہید کر دیا گیا، لیکن لوگوں نے ان کے قتل کے دن کو بھی اس طرح ماتم نہیں کیا،اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان دونوں حضرات (حضرت عثمان اور علی کرم اللہ وجہہٗ) سے افضل ہیں، جن کو مسجد کے محراب میں نماز کی حالت میں جب کہ وہ قراء ت کر رہے تھے‘ شہید کر دیا گیا، لیکن ان کے قتل کے دن بھی اس طرح ماتم نہیں کیا جاتا، اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم جو دنیا وآخرت میں بنی آدم کے سردار ہیں ، ان کی وفات کے دن کو بھی کسی نے ماتم کا دن قرار نہیں دیا۔‘‘
اس قول کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ سمجھنا چاہیے کہ ’’شہادت ‘‘کا مرتبہ خوشی کا ہے یا غم اور سوگ کا ؟؟!!تعلیماتِ نبویہ l سے تو یہ سبق ملتا ہے کہ شہادت کا حصول تو بے انتہا سعادت کی بات ہے:
