عاشوراء کے دن کیا کیا جائے
یومِ عاشوراء میں کیاکیا جائے؟
عاشوراء کے موقع سے لوگوں نے بہت سی واہی تباہیں باتیں ایجاد کر رکھی ہیں۔ لیکن علامہ ابن تیمیہ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں نہ حضرت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے کوئی صحیح حدیث وارد ہوئی ہے اور نہ کسی صحابی سے(کوئی اثر)۔ اسے ائمہ مسلمین، بشمول ائمہ اربعہ و غیرہم نے مستحب گردانا ہے اور نہ کسی مستند کتاب میں اس کا تذکرہ منقول ہے۔ حضرت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور تابعین عظام سے اس کے متعلق کوئی روایت نہیں۔ نہ صحیح ، نہ ضعیف۔ نہ کتبِ صحاح میں اس کا ذکر ہے اور نہ کتبِ سنن میں اور خیر القرون سے بھی ایسی کوئی روایت معلوم نہیں ہوتی (جن میں ان کا تذکرہ ہو)۔ (مجموع الفتاویٰ) نیز مذکورہ بالاتفصیل سے معلوم ہوا کہ یومِ عاشوراء سے متعلق شریعت نے خاص دو چیزیں بتلائی ہیں: روزہ رکھنا اہل وعیال پر کھانے پینے وغیرہ میں وسعت کرنا۔نیز مصیبت کے وقت استرجاع کا حکم ہے اور اس تاریخ میں ایک الم انگیز واقعہ جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا پیش آیا، اس کی یاد سے صدمہ ضرور ہوگا، لہٰذا” انا للّٰہ وانا الیہ راجعون“ پڑھتے رہیں، اس کے علاوہ اس دن کے لیے کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ (فتاوی رحیمیہ ترتیب صالح)
