محرم الحرام کی شرعی حیثیت

محرم الحرام کا مہینہ! شرعی حیثیت، احکامات

نئے ہجری سال کی ابتدا مدینہ منورہ کی طرف ہجرت ِ نبوی l سے لے کر اب تک چودہ سو چھتیس سال کا عرصہ بیت چکا ہے، چودہ سو سینتیسواں سال شروع ہو چکا ہے۔ محرم الحرام اسلامی تقویم ہجری کا پہلا مہینہ ہے، کتنے ہی پڑھے لکھے ، دیندار لوگ ایسے ہیں جنہیں اسلامی تقویم کا علم ہی نہیں، ان سے اسلامی مہینوں کے نام معلوم کر لیں وہ آپ کو نہیں سنا سکیں گے، ان سے روزانہ کی اسلامی تاریخ معلوم کی جائے تو وہ نہیں بتلا پائیں گے۔ جب کہ اس کے برخلاف شمسی تقویم، اس کے مہینوں کے نام اور تاریخ ہرکسی کومعلوم ہوتی ہے۔ کسی بھی دن کسی سے بھی پوچھ لیں کہ آج کیا تاریخ ہے؟ تو فوراً بتا دیں گے۔ جب شمسی سال کے پہلے مہینے جنوری کی ابتدا ہوتی ہے تو’’نیوائیرنائٹ ‘‘پر وہ خوشیاں بھی مناتے ہیں، خوب ہلّہ غلّہ کرتے ہیں، گویا اس طریقے سے وہ نئے سال کاآغاز کرتے ہیں۔ اس مقام پر ہم نے غور وفکر یہ کرنا ہے کہ ’’نیو ائیر‘‘کی اس طرز پر ابتدا ہم نے کہاں سے لی؟! ہمارے لیے تو ’’نیوائیر‘‘ کی ابتدا محرم الحرام کے بابرکت مہینہ سے شروع ہوتی ہے، اور چونکہ ہم مسلمان زندگی گزارنے کے طور طریقوں کے معاملے میں مستقل ایک کامل تہذیب کے مالک ہیں،اس لیے ہمیں اپنی زندگی کی راہ ورسم میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھکاری پن اختیار کرنا مسلمان کی مسلمانیت کے خلاف ہے، ہمیں کسی کے در پر جھکنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم تو خود ساری دنیاکوتہذیب وشائستگی کے آداب وطریقے سکھانے والے ہیں۔

نئے مہینے کے استقبال کا اسلامی طریقہ

’’نئے سال ‘‘کی ابتدا ہو یا ’’نئے مہینے ‘‘کی، شریعت میں جب بھی یہ (’’نئے سال ‘‘ یا ’’نئے مہینے ‘‘کا) لفظ بولا جائے گا اس سے مراد اسلامی مہینہ ہی ہوگا، نہ کہ شمسی مہینہ۔ چنانچہ اس مہینے کی ابتدا کا مسنون طریقہ شریعت کی طرف سے صرف یہ سامنے آتا ہے کہ مہینے کے اختتام پر نئے مہینے کے چاند کو دیکھنے کا اہتمام کیا جائے، یہ عمل مسنون ہے اور جب چاند نظر آجائے تو نیا چاند دیکھنے کی دعا بھی پڑھی جائے، یہ بھی مسنون ہے۔ اس مسنون طریقے کے ہی اپنانے میں اور دعاؤں کا اہتمام کرنے میں برکت، حفاظت اورثواب ہے۔ ہمیں فضول قسم کی رسومات اور خرافات سے بچتے ہوئے اسی کااہتمام کرکے سچے مسلمان اور محب النبی صلی اللہ علیہ و سلم ہونے کاثبوت دیناچاہیے۔امام ابن السنی رحمہ اللہ نے مہینہ کی ابتدا کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت وعادت شریفہ کایوں ذکرفرمایاہے :

’’إن رسول الله صلى الله عليه وسلم کان إذا رأی الهلالَ قال: ’’اللّٰهم اجعله هلال یمنٍ و برکة۔‘‘

(عمل الیوم واللیلة لابن السني، ص:۵۹۶، رقم الحدیث: ۶۴۱، مکتبة الشیخ، کراچی)

ترجمہ:’’حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب پہلی رات کے چاند کو دیکھتے تو یوں دعا مانگتے: اے اللہ! ہمارے لیے اس چاند کوخیرو برکت والا بنادے ۔‘‘

ایک دوسری روایت میں اس وقت یہ دعا پڑھنے کاذکر ہے :

’’ أللّٰهم أَهلَّه علینا بالیُمْنِ والإِیْمَانِ والسَّلامَة والإِسلامِ، ربِّیْ ورَبُّك الله‘‘

(مسند أحمد بن حنبل، مسند أبی محمد طلحة بن عبید الله، رقم الحدیث: ۱۳۹۷،ج: ۲،ص:۱۷۹، دارالحدیث، القاهرة)

ترجمہ:’’ اے اللہ! اس پہلی رات کے چاند کو امن وسلامتی اورایمان واسلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما، (اے چاند! ) میرا اور تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔‘‘  

ہمیں بھی مہینے کی ابتدا اُسی طرح کرنی چاہیے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ تھا ، تاکہ برکتیں اور رحمتیں حاصل ہوں ، چہ جائیکہ! ہم رسوم و بدعات سے ابتدا کریں ۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *