اسلامی کیلنڈر استعمال کرنے کی اہمیت
اسلامی کیلنڈر استعمال کرنے کی اہمیت
دوسری بات یہ کہ ہمیں چاہیے ہم اسلامی تقویم ہجری کے استعمال کی عادت ڈالیں، اپنے روز مرہ کے استعمال میں اس تقویم کو سامنے رکھیں، اگرچہ! دوسری تقویمات ، تاریخوں اورکیلنڈروں کااستعمال گناہ نہیں ہے، شرعاً اس کے اختیار کرنے میں بھی ممانعت نہیں ہے، لیکن شمسی تقویم کا ایسا استعمال کہ ہم اسلامی تقویم کو بالکلیہ بھلا ہی بیٹھیں، یہ کسی طرح درست نہیں، اس لیے کہ اسلامی تقویم ہجری کی حفاظت بھی مسلمانوں کافرض ہے اوراس کے استعمال میں ثواب ہے جس سے محروم نہیں ہوناچاہیے۔ نیز! اپنی شناخت اور اپنے امتیاز کو باقی رکھنابھی ایک غیرت مند مسلمان کے لیے بڑی اہمیت رکھتاہے، اس معاملے میں اس کی بہترشکل یہ ہے ہم قمری تاریخ کے استعمال کوترجیحی بنیادوں پر دوسری تقویم کے مقابلے میں استعمال کریں، خدا نخواستہ اگر سب مسلمان اسلامی تقویم ہجری کو چھوڑ بیٹھیںاور بھلا دیں تو سب کے سب اللہ کے ہاں مجرم ٹھہریں گے، اس لیے کہ اسلام کی بہت ساری عبادات کا تعلق وربط اسی تقویم کے ساتھ ہے، حضرت حکیم الأمت رحمہ اللہ اپنی تفسیر’’بیان القرآن ‘‘ میں ر قمطرازہیں:
’’… البتہ چونکہ احکام شرعیہ کامدار حساب ِقمری پرہے، اس لیے اس کی حفاظت ’’فرض علی الکفایہ‘‘ ہے، پس اگرساری امت دوسری اصطلاح کواپنا معمول بنالیوے، جس سے حساب ِقمری ضائع ہوجاوے (تو)سب گنہگار ہوں گے اوراگر وہ محفوظ رہے تودوسرے حساب کااستعمال بھی مباح ہے، لیکن خلافِ سنتِ سلف ضرور ہے اورحسابِ قمری کابرتنا بوجہ اُس کے فرض کفایہ ہونے کے لابُدَّ افضل واحسن ہے ۔‘‘(بیان القرآن، سورۃ التوبہ:۳۶، ج:۳،ص:۱۳۱، مکتبہ رحمانیہ، لاہور)
اسلامی سال کے اس پہلے مہینے کی اللہ کے ہاں بڑی قدر ہے، یہ عظمت والے مہینوں میں سے ہے، تاریخی روایات کے مطابق اس مہینے میں بہت سے عظیم الشان واقعات پیش آئے،احکامات کے اعتبار سے صحیح اور مستند احادیث سے جو امور سامنے آتے ہیں، وہ صرف دو ہیں:
