(میں تمھارا میاں نہیں رہا )

اگر بیوی کال پر میاں سے طلاق مانگ رہی ہو اور میاں کہے: “میں تمہارا میاں نہیں رہا تم آزاد ہو “، پھر بیوی رونے لگے اور میاں کہے: “تم یہی چاہتی تھی نا؟ میں تمہاری منتیں کر رہا تھا کہ مت مانگو، تم نے کیوں مانگی؟ اب دے دی ہے” یا “اب میں نے آپ کو دے دی ہے”۔نوٹ کریں کہ ان الفاظ سے میاں کی طلاق کی نیت نہیں تھی، بلکہ صرف ڈرانے کے لیے یہ الفاظ کہے تھے۔کیا حکم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

“میں تمہارا میاں نہیں رہا تم آزاد ہو ” یہ الفاظ کنائی طلاق کے ہیں ۔اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے لیے اس طرح کے الفاظ بولتا ہے تو اس سے طلاق ہو جاتی ہے ،بشرطیکہ  طلاق کی نیت ہو یا کوئی ایسا قرینہ پایا جائے کہ جس سے واضح ہو کہ طلاق دینا چاہتا تھا ۔

صورتِ مسئولہ میں بیوی کامیاں سے طلاق کا سوال کرنا چونکہ قرائن میں سے ایک قرینہ ہے، لہذا شوہر کےیہ الفاظ کہنے سے ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے، اگرچہ طلاق کی باقاعدہ نیت نہ بھی ہو ۔اس کے بعد شوہر کے الفاظ “اب دے دی ہے” یا “اب میں نے آپ کو دے دی ہے”بطور تاکید کے ہیں ،ان سے بھی طلاق کے قرائن مضبوط ہورہے ہیں۔بہرحال ایک طلاق بائن واقع ہو کر آپ کا نکاح ختم ہو چکا ہے۔ اب اگر دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں تو از سرِنو  رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کریں ۔آئندہ صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية:1/3

لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام۔۔۔۔۔ والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها۔۔۔۔۔ وفي غيرها بائنة وإن نوى ثنتين وتصح نية الثلاث ولا تصح نية الثلاث في قوله اختاري كذا في التبيین.

البحر الرائق شرح کنز الدقائق:3/328

ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك أو أبنتك أو أبنت منك أو لا سلطان لي عليك أو سرحتك أو وهبتك لنفسك أو خليت سبيلك أو أنت سائبة أو ‌أنت ‌حرة أو أنت أعلم بشأنك. فقالت: اخترت نفسي. يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاءو فی الھندیۃ أیضا۔۔۔ أو ‌أنت ‌حرة أو أنت أعلم بشأنك ۔۔۔۔الخ

حاشية ابن عابدين:3/301,2,

الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له۔۔۔۔(وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقعبالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة.

حنبل اکرم

Similar Posts

  • شرائط وجوب قربانی

    شرائط وجوب ِقربانی: قربانی چھ شرطوں سے واجب ہوتی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں: 1:۔مسلمان ہونا، غیرمسلم پر قربانی نہیں۔ 2:۔ مقیم ہونا، مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ 3:۔ آزاد ہونا، غلام پر قربانی واجب نہیں۔ 4:۔ تو نگری یعنی صاحب نصاب ہونا، مسکین پر قربانی نہیں ۔(الفتاوي الهندية، 5/292) 5 :۔ بالغ ہونا، نابالغ پر…

  • مذکورہ شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں: مذکورہ شرائط کا قربانی کے پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں بلکہ وقت وجوب کے آخری جزء میں بھی اگر یہ شرطیں پائی گئیں تو اس پر قربانی واجب ہے۔ یعنی اگر ۱۲ ذی الحجہ کی شام میں غروب آفتاب سے ذرا پہلے کوئی کافر مسلمان…

  • قربانی کا وقت

    قربانی کا وقت: شہر اور دیہات میں فرق: شہر والوں کے لیے قربانی کا وقت ۱۰ ذی الحجہ کو نمازِ عید کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور دیہات والوں کے لیے صبح صادق سے شروع ہوجاتا ہے۔ اختتام میں کوئی فرق نہیں، دونوں کے لیے ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک وقت رہتا ہے۔ چنانچہ دیہات والے…

  • عاشوراء کے روزوں کی فضیلت

    اشوراء کے روزہ کی فضیلت واحکامدسویں محرم کو عاشوراء کہتے ہیں۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے عاشوراء کے روزے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: عاشوراء کا روزہ، گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔(مسلم) حضرت عبداللہ بن عباس…

  • بسم اللہ الرحمن الرحیم استفتاء برائے مسئلہ قربانیِ حج (دمِ تمتع/قران) اور ترتیب محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ عرض یہ ہے کہ حج میں قربانی (دمِ تمتع یا قران) کے متعلق چند اشکالات درپیش ہیں، جن کی وضاحت مطلوب ہے: فقہ حنفی کے…

  • محرم الحرام کی شرعی حیثیت

    محرم الحرام کا مہینہ! شرعی حیثیت، احکامات نئے ہجری سال کی ابتدا مدینہ منورہ کی طرف ہجرت ِ نبوی l سے لے کر اب تک چودہ سو چھتیس سال کا عرصہ بیت چکا ہے، چودہ سو سینتیسواں سال شروع ہو چکا ہے۔ محرم الحرام اسلامی تقویم ہجری کا پہلا مہینہ ہے، کتنے ہی پڑھے لکھے…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *