عدت کے اندر رجوع

 میری بیوی (……..) گزشتہ تقریباً 14 سال سے میرے نکاح میں ہے اور ہمارے چار بچے ہیں (دو بیٹے اور دو بیٹیاں)۔ کچھ عرصہ قبل میں نے دوسری شادی کی، جس کی وجہ سے میری پہلی بیوی ناراض ہو کر گھر چھوڑ کر چلی گئی، جبکہ ایک چھوٹی بیٹی کو میں نے اس کے پاس بھجوا دیا۔ اس دوران میری بیوی مجھ سے مسلسل طلاق کا مطالبہ کرتی رہی، جس پر میں نے آخرکارمورخہ 26-02-2025 کو ایک طلاق دے دی۔ طلاق کے بعد بھی ہماری WhatsApp پر بات چیت جاری رہی۔ میں نے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر طلاق کے تقریباً 45 دن میں  واضح الفاظ میں اپنی بیوی سے کہا: “آپ میری بیوی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی، ان شاء اللہ” اس بات کے گواہ درج ذیل ہیں: میرے سسر صاحب میرے تایا سسر میری بہنیں میرے بہنوئی بعد ازاں تقریباً 80 دن کے بعد میرے سسر صاحب نے کہا کہ آپ آ کر اپنی بیوی کو لے جائیں۔ میں لینے گیا، لیکن میری بیوی ساتھ آنے پر راضی نہ ہوئی۔ اسی رات اس کا پیغام آیا کہ: “میں اب آپ کی بیوی نہیں رہی، مجھے تین حیض آ چکے ہیں” میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں نے عدّت کے اندر رجوع کے واضح الفاظ کہہ دیے تھے، تو کیا رجوع شمار ہوگا؟ موجودہ صورتحال میں کیا میری بیوی اب بھی میرے نکاح میں ہے ۔

تنقیح : سائل اور  اس کے سسر سے رابطہ پر معلوم ہوا کہ ۴۵ دن میں رجوع کر لیا تھا اور عدت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن ۸۰ دن بعد  جب لینے گیا اس وقت عدت ختم ہو چکی تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 طلاق کی  عدت  تین ماہواریاں ہیں ،  اس کے گزرنے سے پہلے اگر رجوع کر لیا جائے  تو نکاح  برقرار رہتا ہے ۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں  عدت کے دوران رجوع کی وجہ سے مذکورہ عورت آپ کے نکاح میں  باقی ہے ۔

حوالہ جات

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص61):

‌أقل ‌الحيض ثلاثة وأكثره عشرة وأقل ما بين الحيضتين خمسة عشر يوما “”ولا حد لأكثره” لأنه قد يمتد أكثر من سنة.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 32):

‌أقل ‌الحيض للجارية البكر والثيب ثلاثة أيام ولياليها وأكثره عشرة أيام” وهو حجة على الشافعي رحمه الله تعالى في التقدير بيوم وليلة.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار – ط الحلبي (3/ 403):

(قوله: ثم إنما تعتبر المدة) يعني أن في المسائل التي يقبل فيها قولها ” ‌انقضت ‌عدتي “: لا بد من كون المدة تحتمل ذلك، ثم إنما يشترط احتمال المدة ذلك إذا كانت العدة بالحيض فلو كانت العدة بوضع الحمل ولو سقطا مستبين الخلق فلا تشترط مدة.

Similar Posts

  • عاشوراء کے دن کیا کیا جائے

    یومِ عاشوراء میں کیاکیا جائے؟عاشوراء کے موقع سے لوگوں نے بہت سی واہی تباہیں باتیں ایجاد کر رکھی ہیں۔ لیکن علامہ ابن تیمیہ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں نہ حضرت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے کوئی صحیح حدیث وارد ہوئی ہے اور نہ کسی صحابی سے(کوئی اثر)۔ اسے ائمہ…

  • شرکاء میں سے ہر ایک کا صحیح العقیدہ مسلمان ہونا ضروری ہے: شرکاء میں سے ہر شریک کا صحیح العقیدہ مسلمان ہونا قربانی کی صحت کے لیے شرط ہے۔ اگر کوئی ایک شریک بھی ایسا ہو جس کا عقیدہ صحیح نہ ہو بلکہ کفریہ یا شرکیہ ہو تو کسی شریک کی بھی قربانی صحیح نہ…

  • تفویض طلاق کا حکم

    کیا فرماتے ہیں حضرات علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں : نکاح کی کارروائی کے دوران نکاح نامہ کے تمام کو ائف (Columns) پر کیے گئے۔ اس میں تفویض طلاق کے خانے میں شوہر کی مکمل رضامندی سے درج ذیل شرط درج کی گئی : زوجہ کو یہ اختیار حاصل ہو…

  • اتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے ایک چلتی ہوئی دکان کرایہ پر لی۔ دکان کا مالک شہزاد تھا۔ اس نے 5 لاکھ روپے ایڈوانس لیے اور ماہانہ 60 ہزار روپے کرایہ طے ہوا۔ حالانکہ اس لائن میں اسی نوعیت کی دکانوں کا کرایہ 80 ہزار روپے سے کم…

  • اسلامی کیلنڈر استعمال کرنے کی اہمیت

    اسلامی کیلنڈر استعمال کرنے کی اہمیت دوسری بات یہ کہ ہمیں چاہیے ہم اسلامی تقویم ہجری کے استعمال کی عادت ڈالیں، اپنے روز مرہ کے استعمال میں اس تقویم کو سامنے رکھیں، اگرچہ! دوسری تقویمات ، تاریخوں اورکیلنڈروں کااستعمال گناہ نہیں ہے، شرعاً اس کے اختیار کرنے میں بھی ممانعت نہیں ہے، لیکن شمسی تقویم…

  • مذکورہ شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں: مذکورہ شرائط کا قربانی کے پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں بلکہ وقت وجوب کے آخری جزء میں بھی اگر یہ شرطیں پائی گئیں تو اس پر قربانی واجب ہے۔ یعنی اگر ۱۲ ذی الحجہ کی شام میں غروب آفتاب سے ذرا پہلے کوئی کافر مسلمان…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *