سوال

میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی جاب کرتا ہوں اور فری لانسر ہوں۔ میں ہر وقت رزق میں برکت  کے لیے اور کوئی پریشانی کی حالت ہو یا نہ ہواستغفار پڑھتا رہتا ہوں۔ مجھے ایک دوست نے بتایا کہ یہ آپ صحیح نہیں کر رہے، اس سے نقصان ہوگا۔ اس نے شاذلیہ سلسلے کے بارے میں بھی بتایا کہ ان کے اذکار کرو۔ اب اس نے مجھے ٹینشن میں ڈال دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم ہی صحیح ہیں، کسی سے پوچھ لو۔ اب مجھے آپ یہ بتائیں کہ میں کیا کروں۔ آپ اپنی ذاتی رائے یا مشورہ دے سکتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 استغفار کرنا  بہت اچھی  عادت ہے۔  اگر کسی  مستند ،صاحب نسبت اور اللہ والے کی رہنمائی  میں اللہ کا ذکر  کیا جائے ،تو مفید رہے گا، لیکن ذکراور استغفار کے لیے کسی سے بیعت ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ سلسلہ شاذلیہ قدیم سلسلہ رہا ہے ،لیکن ہمارے خطے میں اکابر علماء اس سے وابستہ نہیں ،وہ بالعموم سلاسل اربعہ پر اعتماد کرتے ہیں .                                                                                                             لہذا بہتر یہی ہے کہ اصلاح نفس کے لیے ان سلاسل  (چشتیہ،نقشبندیہ،سہروردیہ اور قادریہ)میں سے کسی ایسےسلسلے کے  صاحب نسبت بزرگ سے تعلق قائم کیا جائے،جن پر معاصر اکابرین کا اعتماد ہو۔.

حوالہ جات

البحر المحيط في التفسير (10/ 282):

ثم أخبر أنه أمرهم بالاستغفار، وأنهم إذا استغفروا در لهم الرزق في الدنيا، فقدم ما يسرهم وما هو أحب إليهم، إذ النفس متشوفة إلى الحصول على العاجل.

الوافي بالوفيات (29/ 33):

علي بن عبد الله بن عبد الجبار بن تميم بن هرمز بن حاتم بن قصي بن يوسف بن يوسف أبو الحسن الشاذلي بالشين والذال المعجمتين وبينهما ألف، وفي الآخر لام. وشاذلة قرية بأفريقية. المغربي الزاهد، نزيل الإسكندرية وشيخ الطائفة الشاذلية. وقد انتسب في بعض مصنفاته إلى علي بن أبي طالب فقال بعد يوسف المذكور: ابن يوشع بن برد بن بطال بن أحمد بن محمد بن عيسى بن محمد بن الحسن بن علي رضي الله عنهما. قال الشيخ شمس الدين: هذا نسب مجهول لا يصح ولا يثبت، وكان الأولى به تركه وترك كثير مما قاله في تواليفه من الحقيقة. وهو رجل كبير القدر كثير الكلام عالي المقام، له شعر ونثر فيه متشابهات وعبارات يتكلف له في الاعتذار عنها. ورأيت شيخنا عماد الدين قد فتر عنه في الآخر وبقي واقفا في هذه العبارات حائرا في الرجل. لأنه كان قد تصوف على طريقته. وصحب الشيخ نجم الدين الاصبهاني نزيل الحرم، ونجم الدين صحب الشيخ أبا العباس المرسي صاحب الشاذلي. وكان الشاذلي ضريرا، حج مرات وتوفي بصحراء عيذاب قاصد الحج، فدفن هناك في أول ذي القعدة سنة ست وخمسين وست مائة. وللشيخ تقي الدين ابن تيمية مصنف في الرد على ما قاله الشاذلي في الحزب. وله حزبان كبير وصغير، ولا بأس بذكر الصغير وهو: بسم الله الرحمن الرحيم، يا علي يا عظيم

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

22/رجب المرجب  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

Similar Posts

  • اتے ہیں مفتیانِ کرام  اس مسئلہ کے بارے میں کہ صلاۃ التسبیح  نماز کا باقاعدہ اہتمام کرنا کیسا ہے؟ اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ صلاۃ التسبیح کا باقاعدہ اہتمام کرنا جائز ہے، بلکہ فضیلت اور باعثِ ثواب  ہے، بشرطیکہ اسے لازمی اور فرض کی طرح نہ سمجھا جائے۔جیسا کہ حدیث  مبارک میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی…

  • کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دو بھائی ہیں اور دونوں کا واہ کینٹ میں مشترکہ گھر ہے،جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ پلاٹ کی زمین کی قیمت آدھی بڑے بھائی نے ادا کی جبکہ آدھی قیمت چھوٹے بھائی نے ادا کی۔ عمارت کی تعمیر میں تمام خرچہ…

  • فوت شدہ والدین کی طرف سے قربانی

    مسئلہ: فوت شدہ والدین کی طرف سے قربانی کا طریقہ اگر اولاد بڑے جانور (اونٹ، گائے وغیرہ) کی قربانی کررہی ہو اور اپنے کسی مرحوم کی طرف سے بھی نفلی قربانی کرنا چاہتی ہو تو اسی جانور میں سے ساتواں حصہ اپنے والد یا والدہ یا کسی بھی مرحوم کے لیے مختص کرسکتے ہیں، الگ…

  • گیارہ سال کا بچہ طلاق کے بعد ماں کے پاس رہے گا یا باپ کے پاس

    کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بچہ جس کی عمر تقریبا گیارہ سال ہے  باپ نے ماں سے لے لیا ہے اور ماں سے ملاقات بھی نہیں کرواتا(باپ نے ماں کو طلاق دی ہوئی ہے) بسم اللہ الرحمن ارحیم الجواب حامدا ومسلیا ومسلما واضح رہے کہ جب تک بچوں…

  • جائز و ناجائزامور کا بیان 90189 جائز و ناجائزامور کا بیان جائز و ناجائز کے متفرق مسائل سوال ایک شخص کو اس کے والدین نے موبائل استعمال کرنے سے منع کیا تھا، حالانکہ موبائل اسی کی ملکیت ہے۔ اس نے والدین کے سامنے بھی موبائل استعمال کیا، لیکن بعد میں انہوں نے اس پر کوئی…

  • ہبہ شدہ جانور

    مسئلہ: پیدائشی طور پر تین یا چار کان والے جانور کی قربانی کرنے کا حکم اگر کسی جانور کے پیدائشی تین یا چار کان ہوں تو ایسے جانور کی قربانی درست نہیں ہے، کیونکہ یہ عیب ہے جو کہ قربانی کے جواز سے مانع ہے۔                    …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *