(الفتاوى الهندية، 5/295)۔
کسی ایک جگہ نماز عید کا ہوجانا اضحیہ کے لیے کافی ہے:
اگر شہر میں متعدد جگہ نماز عید ہوتی ہے تو قربانی کی صحت کے لیے ایک جگہ نماز ہوجانا کافی ہے۔ ہر قربانی کرنے والے کا نماز عید پڑھ کر قربانی کرنا ضروری نہیں۔ شہر میں سب سے پہلی نماز کے بعد کسی نے خود نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کردی تو جائز ہے ۔(حاشية ابن عابدين، 6/318)۔
وقت میں فرق کس لحاظ سے؟
شہر اور دیہات کے درمیان جو وقت ِقربانی کا فرق بیان کیا گیا، یہ فرق قربانی کے لحاظ سے ہے نہ کہ قربانی کرنے والے کے اعتبار سے۔ لہٰذا اگر شہری نے اپنا جانور دیہات میں بھیج دیا تو نمازِ عید سے پہلے بھی اسے ذبح کیا جاسکتا ہے اور اگر دیہاتی نے اپنا جانور شہر میں بھیج دیا تو اسے نمازِ عید سے پہلے ذبح کرنا جائز نہیں۔(حاشية ابن عابدين، 6/31
