ایزی پیسہ اکاؤنٹ کے استعمال کا حکم


سوال

کیا Easy paisa Account کو صرف اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟ مثلاً بجلی وغیرہ کا بل جمع کروانے کے لیے یا کسی کو پیسہ بھیجنے کے لیے۔ اگر کسی بھی سودی اسکیم کو استعمال نہ کیا جائے۔

جواب

’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ ‘‘   ایک ایسی سہولت ہے جس میں آپ اپنی جمع کردہ رقوم  سے کئی قسم کی سہولیات حاصل کرسکتے ہیں، مثلاً: بلوں کی ادائیگی، یا رقوم کا تبادلہ، موبائل وغیرہ میں بیلنس کا استعمال وغیرہ ۔ نیز تحقیق کرنے پر  بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کی پشت پر ایک بینک ہوتا ہے، “telenor micro-financing bank “، یہ بھی ایک قسم کا بینک ہی ہے کہ جس میں عام طور پر چھوٹے سرمایہ داروں کی رقوم سود پر رکھی جاتی ہیں اور اس میں سے چھوٹے کاروباروں کے لیے سود پر قرض بھی دیا جاتا ہے۔

“ایزی پیسہ اکاؤنٹ” کی فقہی حیثیت یہ ہے کہ اس اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم قرض ہے ، اور  چوں کہ قرض دے کر اس سے کسی بھی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے ؛ اس لیے اس قرض کے بدلے کمپنی کی طرف سے دی جانے والی سہولیات وصول کرنا اور ان کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے، لہذا   کمپنی  اکاؤنٹ ہولڈر کو اس مخصوص رقم جمع کرانے کی شرط پر  یومیہ فری منٹس اور میسیجز وغیرہ کی سہولت فراہم کرتی  ہے یا رقم کی منتقلی پر ڈسکاؤنٹ وغیرہ دیتی ہے یا ایزی لوڈ پر کیش بیک دیتی ہے  تو  ان کا استعمال جائز نہیں ہوگا، اس لیے کہ اس اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا درحقیقت  قرض ہے، اور  قرض دینا تو فی نفسہ جائز ہے، لیکن کمپنی اس پر جو  مشروط منافع دیتی  ہے، یہ  شرعاً ناجائز ہے ؛ اس لیے کہ قرض پر شرط لگا کر نفع  کے لین  دین  کو نبی کریم ﷺ نے سود قرار دیا ہے ۔ (مصنف بن أبی شیبہ، رقم:۲۰۶۹۰ )

 نیز   چوں کہ اس صورت  میں  مذکورہ اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز معاملے کےساتھ مشروط ہے  ؛ اس لیے یہ اکاؤنٹ کھلوانا یا کھولنا  بھی جائز نہیں ہوگا۔

اگر کوئی  شخص’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ‘‘  کھلواچکا ہو تو اس کے لیے یہ  حکم ہے کہ وہ جلد از جلد مذکورہ اکاؤنٹ ختم کروائے اور صرف اپنی جمع کردہ رقم واپس لے سکتاہے، یا صرف جمع کردہ رقم کے برابر استفادہ کرسکتاہے، اس رقم  پر ملنے  والے اضافی فوائد حاصل کرنا اس کے لیے  جائز نہیں ہوں گے۔ 

اور اگر  کوئی کمپنی ایزی پیسہ اکاؤنٹ  کھلوانے کو اس ناجائز معاملہ کے ساتھ مشروط  نہ کرے، یعنی مخصوص رقم  رکھوانے کی شرط کے بغیر ہی کھولا جائے،  یا کمپنی نے از خود کھول دیا ہو  تو  پھر رقم کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی اور دیگر اس طرح کے کاموں کےلیے  اس اکاؤنٹ کا استعمال جائز ہوگا، اب اس صورت میں اس اکاؤنٹ کے استعمال کی صورت میں اگر کوئی رعایت یا کیش بیک ملتا ہے تو اس  کے حکم میں یہ  تفصیل  ہوگی کہ اگر وہ کیش بیک اور رعایت اسی کمپنی کی طرف سے مل رہا ہے  تو یہ ان کی طرف سے تبرع ہوگا، اور اس کا استعمال جائز ہوگا، اور اگر یہ رعایت اس کی پشت پر موجود بینک کی طرف سے مل رہا ہے تو پھر اس رعایت کا استعمال جائز نہیں ہوگا، اس بارے میں معلومات کرلی جائیں ، اور جب تک معلومات نہ ہوں ان کیش بیک اور سہولیات کے استعمال سے احتیاط کی جائے۔

اور اگر کمپنی  کی جانب سے “ایزی پیسہ اکاؤنٹ” کی سہولت رقم جمع کروانے سے مشروط نہ ہو،ا  ور رقم جمع کرنے پر اضافی رقم یا سہولیات وغیرہ بھی نہ دے، بلکہ رقوم کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی یا لوڈ کرنے کی حد تک سہولیات ہوں اور سائل بھی  اپنے  “ایزی پیسہ اکاؤنٹ “کو ہر قسم کے سودی  معاملات سے بچاتے ہوئے صرف ضرورت کی حد تک جائز امور میں استعمال کرے  تو اس  کی گنجائش ہے ۔

الدر المختار مع رد المحتار (فتاوی شامی ) میں ہے :

“وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. وفي الأشباه ‌كل ‌قرض ‌جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن۔

[مطلب ‌كل ‌قرض ‌جر نفعا حرام] (قوله ‌كل ‌قرض ‌جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن اهـ سائحاني۔”

( الدر المختار مع رد المحتار ، ج: 5  ،ص:166، ط:ایچ ایم سعید )

فقط واللہ اعلم 

Similar Posts

  • مذکورہ شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں: مذکورہ شرائط کا قربانی کے پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں بلکہ وقت وجوب کے آخری جزء میں بھی اگر یہ شرطیں پائی گئیں تو اس پر قربانی واجب ہے۔ یعنی اگر ۱۲ ذی الحجہ کی شام میں غروب آفتاب سے ذرا پہلے کوئی کافر مسلمان…

  • قربانی کا وقت

    قربانی کا وقت: شہر اور دیہات میں فرق: شہر والوں کے لیے قربانی کا وقت ۱۰ ذی الحجہ کو نمازِ عید کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور دیہات والوں کے لیے صبح صادق سے شروع ہوجاتا ہے۔ اختتام میں کوئی فرق نہیں، دونوں کے لیے ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک وقت رہتا ہے۔ چنانچہ دیہات والے…

  • شرائط وجوب قربانی

    شرائط وجوب ِقربانی: قربانی چھ شرطوں سے واجب ہوتی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں: 1:۔مسلمان ہونا، غیرمسلم پر قربانی نہیں۔ 2:۔ مقیم ہونا، مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ 3:۔ آزاد ہونا، غلام پر قربانی واجب نہیں۔ 4:۔ تو نگری یعنی صاحب نصاب ہونا، مسکین پر قربانی نہیں ۔(الفتاوي الهندية، 5/292) 5 :۔ بالغ ہونا، نابالغ پر…

  • دو طلاق کے بعد عدت کے اندر رجوع نہیں کیا

    سوال:کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے مجھے دو طلاقیں دیں اور عدت کے اندر رجوع بھی نہیں کیا ۔کیا اب نکاح باقی ہے یا ختم ہو گیا؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب حامدا ومصلیا ومسلما صورت مسولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعی درست اور صحیح ہے…

  • (الفتاوى الهندية، 5/295)۔ کسی ایک جگہ نماز عید کا ہوجانا اضحیہ کے لیے کافی ہے: اگر شہر میں متعدد جگہ نماز عید ہوتی ہے تو قربانی کی صحت کے لیے ایک جگہ نماز ہوجانا کافی ہے۔ ہر قربانی کرنے والے کا نماز عید پڑھ کر قربانی کرنا ضروری نہیں۔ شہر میں سب سے پہلی نماز…

  • سوال     تین بھائی (زید، عمر، بکر) باپ کی زندگی میں  مشترکہ کاروبار میں نفع و نقصان کے شریک رہے۔ زید کو خرید و فروخت کا اختیار حاصل تھا۔ سنہ 1999 تک شرکت ثابت ہے۔ زید نے 1999 سے پہلے جو جنگلات خریدے وہ سب مشترکہ ملکیت میں تھے۔ زید کے انتقال (2012) کے بعد…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *