ہبہ شدہ جانور کی قربانی کاحکم

ہدیہ ملے جانور کی قربانی کا حکم


سوال

اگر میں نے زید کو قربانی کا جانور خرید کر دیا  اس حال میں کہ زید خود   بھی صاحب نصاب تھا، توکیا زید کے لیے  اس جانور کی قربانی کرنا  درست ہوگا۔برائے مہربا نی جواب مع حوالہ دیں۔

جواب

واضح رہے کہ جو شخص أيام نحر میں صاحب نصاب ہو اس پر  قربانی کرنا واجب ہوتا ہے، وجوب کی ادائیگی کے لیے اپنا مملوکہ جانور ( خواہ وہ اپنے ذاتی پیسوں سے خریدا ہو، یا کسی نے ہبہ کیا ہو)   ذبح کرنا شرعا ضروری  ہوتا ہے،  لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے اگر زيد کو قربانی کا جانور ہدیہ کیا ہو تو ایسے جانور کی قربانی کرنے سے زيد کی قربانی ادا ہوجائے گی، البتہ سائل نے   قربانی کا  مذکورہ جانور  اگر زيد  کو   اس لیے دیا ہو کہ زيد سائل کی جانب سے قربانی کردے، تو اس صورت میں ایسے جانور کی قربانی سے سائل کی قربانی تو ادا ہوجائے گی، تاہم زيد کی جانب سے ادا نہ ہوگی، اسے الگ سے قربانی کرنا ضروری ہوگا۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

“وشرعا (ذبح حيوان مخصوص بنية القربة في وقت مخصوص. وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر.

(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفا، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم، وصاحب الثياب الأربعة لو ساوى الرابع نصابا غنى وثلاثة فلا، لأن أحدها للبذلة والآخر للمهنة والثالث للجمع والوفد والأعياد، والمرأة موسرة بالمعجل لو الزوج مليا وبالمؤجل لا، وبدار تسكنها مع الزوج إن قدر على الإسكان.

له مال كثير غائب في يد مضاربه أو شريكه ومعه من الحجرين أو متاع البيت ما يضحي به تلزم، وتمام الفروع في البزازية وغيرها.”

( كتاب الأضحية، ٦ / ٣١٢، ط: دار الفكر )

Similar Posts

  • (میں تمھارا میاں نہیں رہا )

    اگر بیوی کال پر میاں سے طلاق مانگ رہی ہو اور میاں کہے: “میں تمہارا میاں نہیں رہا تم آزاد ہو “، پھر بیوی رونے لگے اور میاں کہے: “تم یہی چاہتی تھی نا؟ میں تمہاری منتیں کر رہا تھا کہ مت مانگو، تم نے کیوں مانگی؟ اب دے دی ہے” یا “اب میں نے آپ…

  • Umrah ka Tarika in Urdu- عمرے کا مکمل مفصل مسنون طریقہ جمعہ بیان

    عمرہ کا طریقہ – مکمل رہنمائی عمرہ ایک عظیم عبادت ہے جو ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے۔ یہ خانہ کعبہ کی زیارت اور مخصوص اعمال پر مشتمل ہوتا ہے۔ عمرہ کو “چھوٹا حج” بھی کہا جاتا ہے اور اسے سال کے کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے۔ یہ مضمون ان لوگوں…

  • رات میں قربانی کرنا: دسویں اور تیرہویں رات کو قربانی کرنا جائز نہیں۔ گیارہویں اور بارہویں رات کو جائز ہے، مگر رات میں رگیں نہ کٹنے، یا ہاتھ کٹنے، یا اضحیہ کے آرام میں خلل کے اندیشہ سے ذبح کرنا مکروہ تنزیہی ہے ۔(حاشية ابن عابدين، 6/32

  • مسجد میں وراثت جاری ہونا

    یرے ماموں جان جن کا نام محمد یوسف ہے، انہوں نے اور ان کے ایک دوست جن کا  نام محمد نعمت ہے دونوں نے مل کر ایک 4 مرلہ کا پلاٹ مسجد کی نیت سے لیا، اور جامع مسجد عمر حیات کے نام سے اس کی بنیاد  رکھی گئی۔ نعمت صاحب نے اپنے حصے کے…

  • کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ  کے بارے میں کہ عورتوں  کا قبرستان جانا شرعا کیسا ہے؟ اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ عورتوں کے لیے قبرستان جانے کی فی نفسہ تو اجازت ہے، لیکن چونکہ عام طور پر عورتیں بے پردگی کی حالت میں قبرستان جاکر جزع و فزع کرتی ہیں ،جبکہ وہاں جاکر بدعات…

  • (الفتاوى الهندية، 5/295)۔ کسی ایک جگہ نماز عید کا ہوجانا اضحیہ کے لیے کافی ہے: اگر شہر میں متعدد جگہ نماز عید ہوتی ہے تو قربانی کی صحت کے لیے ایک جگہ نماز ہوجانا کافی ہے۔ ہر قربانی کرنے والے کا نماز عید پڑھ کر قربانی کرنا ضروری نہیں۔ شہر میں سب سے پہلی نماز…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *