ذی الحجہ کی فضیلت

سوال

ذو الحجہ کی کیا فضیلت ہے؟

جواب

ذوالحجہ کے مہینے کی دیگر مہینوں پر یہ فضیلت ہے کہ اللہ تعالی نےاس میں دو بڑی عبادات کو یکجا کیا ہےجو کسی اور مہینے میں ادا نہیں کی جاسکتی،ایک حج اور دوسری قربانی،ان خصوصی عبادات کے لیے اس مہینے کا انتخاب اس کی فضیلت کو واضح کررہا ہے،نیزاس ماہ کے ابتدائی عشرے کی فضیلت قرآن کریم اور احادیثِ طیبہ سے ثابت ہے۔
قرآن مجید میں سورۃ”والفجر”میں اللہ تعالی نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے،اور وہ دس راتیں جمہورکے قول کے مطابق یہی ذی الحجہ کی ابتدائی راتیں ہیں،اللہ تعالی کا ان راتوں کی قسم اٹھاناان کی عظمت اور ذی شان ہونے کی دلیل ہے۔
احادیث مبارکہ میں بھی ذی الحجہ کی ابتدائی دس دنوں کی بہت فضیلت آئی ہے۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ عبادت کرنے کے لیےاللہ تعالی کے نزدیک سب دنوں میں ذی الحجہ کےابتدائی دس دن سب سے افضل ہیں،اس کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابراور اس میں ہر رات کی عبادت شب قدر کی برابر ہے۔
حضورﷺکا ارشاد مبار ک ہےکہ عمل صالح جس قدر ان دنوں میں مقبول ہے،کسی دوسرے دنوں میں نہیں،بعض روایتوں سے معلوم ہوتاہےکہ ان دس راتوں کی عبادت لیلۃ القدر جیسی فضیلت رکھتی ہے،ان ایام میں اللہ تعالی کا خاص تقرب حاصل کیا جاتاہے۔
حضورﷺنے فرمایا کہ جو شخص یوم عرفہ یعنی نو ذی الحجہ کا روزہ رکھےگا، مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالی اس کے  ایک سال پچھلے اور ایک سال اگلے  کے گناہ معاف کردےگا۔

سنن ترمذی میں ہے:

“عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما من أيام أحب إلى الله أن يتعبد له فيها من ‌عشر ‌ذي ‌الحجة، يعدل صيام كل يوم منها بصيام سنة، وقيام كل ليلة منها بقيام ليلة القدر.”

(ابواب الصوم  عن رسول اللہﷺ،باب ماجاء فی العمل فی ایام العشر،122/2،ط:دار الغرب الاسلامی بیروت)

وفیہ ایضاً:

” عن أبي قتادة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: صيام يوم عرفة إني أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله والسنة التي بعده.”

(ابواب الصوم  عن رسول اللہﷺ،باب ماجاء فی فضل صوم یوم عرفہ،115/2،ط:دار الغرب الاسلامی بیروت)

تفسیر روح المعانی میں ہے:

“وقد أخرج أحمد والبخاري عن ابن عباس مرفوعا: ما من أيام فيهن العمل أحب إلى الله عز وجل وأفضل من أيام العشر،قيل:يا رسول الله ولا الجهاد في سبيل الله؟ قال: «ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل جاهد في سبيل الله بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء.”

(سورۃ الفجر،آیت 334/15،2،ط:دار الکتب العلمیۃبیروت)
فقط واللہ اعلم

Similar Posts

  • وراثت

    ہم 5 بہنیں اور 7 بھائی ہیں،  ہماری شادیاں بالترتیب: پہلی بہن 1985ء، دوسری بہن 1998ء، تیسری بہن کی شادی 2003ء اور چوتھی بہن کی شادی 2006ء میں ایک ساتھ انجام پائیں۔ ہمارے والد کا انتقال 7 سال اور امی کا انتقال 5 سال پہلے ہوا۔ NIC کے مطابق انتقال کے وقت میرے والد کی عمر…

  • مذکورہ شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں: مذکورہ شرائط کا قربانی کے پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں بلکہ وقت وجوب کے آخری جزء میں بھی اگر یہ شرطیں پائی گئیں تو اس پر قربانی واجب ہے۔ یعنی اگر ۱۲ ذی الحجہ کی شام میں غروب آفتاب سے ذرا پہلے کوئی کافر مسلمان…

  • ہبہ شدہ جانور کی قربانی کاحکم

    ہدیہ ملے جانور کی قربانی کا حکم سوال اگر میں نے زید کو قربانی کا جانور خرید کر دیا  اس حال میں کہ زید خود   بھی صاحب نصاب تھا، توکیا زید کے لیے  اس جانور کی قربانی کرنا  درست ہوگا۔برائے مہربا نی جواب مع حوالہ دیں۔ جواب واضح رہے کہ جو شخص أيام نحر میں…

  • حاملہ عورت کو طلاق دینا

    عورت کو شک ہو کہ وہ pregnant ہے اور وہ شوہر کو طلاق دیتے وقت روکے کہ اس حالت میں طلاق نہ دو انتظار کرو لیکن شوہر پھر بھی تین طلاقیں دے، تو اس طلاق کی شرعی حیثیت کیا ہوگی ؟ اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ بیوی کو حمل  (pregnancy)کی حالت میں طلاق دینے سے بھی طلاق واقع…

  • محرم الحرام کا پہلا حکم

    ماہِ محرم الحرام میں پہلا حکم اس ماہِ مبارک میں مطلقاً کسی بھی دن روزہ رکھنا رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ شمار ہوتا ہے، نیز!نو اور دس محرم یا دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھنا اور بھی زیادہ فضیلت کی چیز ہے، چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث میں واردہے : ’’ أفضل…

  • محرم الحرام میں روزوں کی فضیلت

    ماہِ محرم میں روزے کی فضیلتحضرت نعمان بن سعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپرمضان کے علاوہ مجھے کس مہینے میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے اس کے متعلق ایک آدمی کو رسول اللہ صلی…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *