قربانی کا وقت

قربانی کا وقت:

شہر اور دیہات میں فرق:

شہر والوں کے لیے قربانی کا وقت ۱۰ ذی الحجہ کو نمازِ عید کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور دیہات والوں کے لیے صبح صادق سے شروع ہوجاتا ہے۔ اختتام میں کوئی فرق نہیں، دونوں کے لیے ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک وقت رہتا ہے۔ چنانچہ دیہات والے صبح صادق کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے بھی قربانی کرسکتے ہیں اور شہر والے نماز عید کے بعد قربانی کرسکتے ہیں، اگر شہر میں کسی بھی جگہ عید کی نماز نہیں ہوئی تھی کہ کسی شہری نے قربانی کردی تو قربانی نہیں ہوئی(الدر المختار، 1/646)۔

مستحب وقت:

دیہات والوں کے لیے مستحب وقت یہ ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد قربانی کریں اور شہر والوں کے لیے مستحب وقت یہ ہے کہ خطبۂ عید کے بعد قربانی کریں۔ پہلا دن قربانی کے لیے سب سے افضل ہے، پھر دوسرے دن کا درجہ ہے، پھر تیسرے دن کا۔ (الفتاوى الهندية، 5/295)۔

پہلے دن نماز نہ پڑھی جاسکی:

اگر شہر میں کسی وجہ سے نماز عید نہ پڑھی جاسکے تو قربانی اتنی مؤخر کی جائے کہ نماز کا وقت گذر جائے یعنی زوال آفتاب تک انتظار کیا جائے۔ اگر نماز عید کسی عذر سے گیارہویں یا بارہویں کو پڑھی جائے تو قربانی نماز عید سے پہلے بھی کی جاسکتی ہے۔ (الفتاوى الهندية، 5/295)۔

Similar Posts

  • کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری دادی مرحومہ کے ورثاء میں صرف تین بیٹے تھے۔ دادی کی تقریباً 29 ایکڑ زرعی زمین تینوں بیٹوں میں تقسیم ہوئی اور ہر ایک کے حصے میں قریباً 9، 9 ایکڑ زمین آئی۔ تقریباً 40 سال قبل تینوں بھائیوں نے…

  • تراویح میں قعدہ کیے بغیر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کا حکم

    سوال تراویح میں امام دوسری رکعت کے سجدے کے فورًا بعد تیسری رکعت کے لیے اٹھ گیا اور چار رکعتیں مکمل کرکے آخری قعدہ میں سجدہ سہو کرلیا، کیا اس صورت میں چاروں رکعتیں تراویح شمار ہوں گی یا نہیں؟ جواب صورتِ مسئولہ میں تراویح میں امام غلطی سے تیسری رکعت کے لئے کھڑاہو گیا،…

  • مذکورہ شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں: مذکورہ شرائط کا قربانی کے پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں بلکہ وقت وجوب کے آخری جزء میں بھی اگر یہ شرطیں پائی گئیں تو اس پر قربانی واجب ہے۔ یعنی اگر ۱۲ ذی الحجہ کی شام میں غروب آفتاب سے ذرا پہلے کوئی کافر مسلمان…

  • شرائط وجوب قربانی

    شرائط وجوب ِقربانی: قربانی چھ شرطوں سے واجب ہوتی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں: 1:۔مسلمان ہونا، غیرمسلم پر قربانی نہیں۔ 2:۔ مقیم ہونا، مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ 3:۔ آزاد ہونا، غلام پر قربانی واجب نہیں۔ 4:۔ تو نگری یعنی صاحب نصاب ہونا، مسکین پر قربانی نہیں ۔(الفتاوي الهندية، 5/292) 5 :۔ بالغ ہونا، نابالغ پر…

  • بسم اللہ الرحمن الرحیم استفتاء برائے مسئلہ قربانیِ حج (دمِ تمتع/قران) اور ترتیب محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ عرض یہ ہے کہ حج میں قربانی (دمِ تمتع یا قران) کے متعلق چند اشکالات درپیش ہیں، جن کی وضاحت مطلوب ہے: فقہ حنفی کے…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *