فوت شدہ والدین کی طرف سے قربانی
مسئلہ: فوت شدہ والدین کی طرف سے قربانی کا طریقہ
اگر اولاد بڑے جانور (اونٹ، گائے وغیرہ) کی قربانی کررہی ہو اور اپنے کسی مرحوم کی طرف سے بھی نفلی قربانی کرنا چاہتی ہو تو اسی جانور میں سے ساتواں حصہ اپنے والد یا والدہ یا کسی بھی مرحوم کے لیے مختص کرسکتے ہیں، الگ سے جانور لینا ضروری نہیں ہے۔ اور ایک سے زائدافراد مل کر ایصالِ ثواب کےلیے ایک حصے کی قربانی کرنا چاہیں تو اس صورت میں وہ افراد کسی ایک شخص کو اس رقم کا مالک بنادیں، بعد ازاں وہ قربانی اس بیٹے کی طرف سے والد کے ایصالِ ثواب کے لیے ہوگی اور ثواب دیگر افراد کو بھی ملے گا۔
اور اگر کوئی بیٹا/بیٹی اپنے مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کے لیے قربانی کرنا چاہے تو وہ بھی کرسکتا ہے، البتہ اولاد میں سے جس پر صاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سے اپنی قربانی کرنا واجب ہو تو والد کی طرف سے بطور ایصالِ ثواب قربانی کرنے کی وجہ سے اس سے اپنی قربانی کا وجوب ساقط نہیں ہوگا۔ (فتویٰ نمبر: 21418
