ایزی پیسہ اور بینک اکاونٹ کا حکم

اکثر مفتیان نے ایزی پیسہ ایپ  کے متعلق حرمت کا  حکم اس بنا پر دیا ہے کہ  قرض کی سہو لت حاصل کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے تو یہی علت  بینک ایپس میں بھی پایا جاتا ہے کیونکہ بینک ایپس میں  بھی بلوں کی ادایئگی وغیرہ   سہولیات  ہوتی ہیں  تو بینک ایپس  کا کیا حکم ہے؟

جواب

             واضح رہے کہ  ایزی پیسہ ایپ ایک ایسی سہولت ہے جس میں جمع کردہ رقوم سے  اکاؤنٹ ہولڈر  کئی قسم کی سہولیات حاصل کرسکتا ہے مثلا بلوں کی ادائیگی ،رقوم کی منتقلی اور ایزی لوڈ وغیرہ ۔ اس میں جمع کردہ  رقم کی حیثیت شرعا قرض کی ہوتی ہے اور کسی کو قرض دینا  شرعا جائز ہے، اس لیے ایزی پیسہ   اکا ؤنٹ  کھولنا اور استعمال کرنا بھی  جائز ہے اسی طرح  بینک  ایپ بھی ایزی پیسہ کی طرح ہے ،لہذا بینک ایپ   کھولنا اور استعمال کرنا بھی جائز ہے ،تاہم  اکاؤنٹ  چاہے بینک  کاہو یا ایزی پیسہ وغیرہ کا ہو اگر اس میں مخصوص رقم کے موجود ہونے  کی شرط پر اکا ؤنٹ  ہولڈر کو اضافی رقم ،فری منٹس ،فری ایس ایم ایسSMS اور فری انٹر نیٹ وغیرہ کی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہوں   تو ایسی صورت میں یہ سہولیات قرض پر مشروط منافع ہونے کی بنا پر  سود کے  زمرے میں داخل ہیں ، اس لیے اکاؤنٹ ہولڈر کے لیے مذکورہ منافع استعمال کرنا جائز نہیں ۔

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ۔۔۔ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به۔(ردالمحتار علی الدر المختار،كتاب البيوع،باب المرابحه و التولية،مطلب : كل قرض جر نفعا حرام،ج:5،ص:166)

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *