عاشوراء کے دن سرمہ لگانا

ال

   کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عاشوراء یعنی دس محرم کے دن سرمہ لگانے کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

   عاشوراء یعنی دس محرم کے دن سرمہ لگانا جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ، بلکہ جو عاشوراء کے دن اثمد سرمہ لگائے تو اس کی آنکھیں کبھی نہیں دُکھیں گی۔

   امام جلال الدین سیوطی شافعی  علیہ الرّحمہ  اپنی کتاب الجامع الصغیر میں حدیث پاک نقل فرماتے ہیں :” من اکتحل بالاثمد یوم عاشوراء  لم یرمد ابدا “ یعنی جس نے عاشوراء کے  دن اثمد سرمہ لگایا اس کی آنکھیں کبھی نہ دکھیں گی۔ (الجامع الصغیر ، جز : 2 ،  ص418 ، حدیث : 8506)

   اس حدیث پاک کے تحت علامہ عبدالرؤف مناوی  علیہ الرّحمہ  فرماتے ہیں :” ان فی الاکتحال بہ مرمۃ للعین وتقویۃ للبصر ، واذاکان ذلک منہ فی ذلک الیوم نال البرکۃ  فعوفی من الرمد علی طول الامد “ یعنی اثمد سرمہ لگانے میں آنکھوں کی درستی اور بینائی کی تقویت ہے ، اور جب اس (عاشوراء کے) دن میں لگایا جائے تو برکت حاصل ہو گی ، پھر طویل مدت  آنکھوں کے درد سے عافیت نصیب ہو جائے گی۔ (التیسیر شرح جامع الصغیر ، 2 / 404)

   درر المنتقی میں قہستانی سے ہے :”ولاباس بہ للجمیع یوم عاشوراء علی المختار لقولہ  علیہ الصلاۃ والسلام من اکتحل یوم عاشوراء لم ترمد عیناہ ابدا “ یعنی عاشوراء کے دن تمام (روزہ دار ، اور غیر روزہ دار) کے لئے مختار قول کے مطابق سرمہ لگانے میں حرج نہیں ، کیونکہ نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ وسلَّم  کا فرمان ہے : جس نے عاشوراء کے دن سرمہ لگایا اس کی آنکھیں کبھی نہ دکھیں گی۔ (الدرر المنتقیٰ ، 1 / 364)

   مفتی احمد یار خان نعیمی  علیہ الرّحمہ  فرماتے ہیں :” عاشوراء کے دن اور بہت سے اعمال کرنا چاہئیں جیسے غسل کرنا ، سرمہ لگانا ، روزہ رکھنا وغیرہ۔  “ (مراٰۃ المناجیح ، 3 / 126 )

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

Similar Posts

  • بسم اللہ الرحمن الرحیم استفتاء برائے مسئلہ قربانیِ حج (دمِ تمتع/قران) اور ترتیب محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ عرض یہ ہے کہ حج میں قربانی (دمِ تمتع یا قران) کے متعلق چند اشکالات درپیش ہیں، جن کی وضاحت مطلوب ہے: فقہ حنفی کے…

  • قربانی کا وقت

    قربانی کا وقت: شہر اور دیہات میں فرق: شہر والوں کے لیے قربانی کا وقت ۱۰ ذی الحجہ کو نمازِ عید کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور دیہات والوں کے لیے صبح صادق سے شروع ہوجاتا ہے۔ اختتام میں کوئی فرق نہیں، دونوں کے لیے ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک وقت رہتا ہے۔ چنانچہ دیہات والے…

  • ہبہ شدہ جانور کی قربانی کاحکم

    ہدیہ ملے جانور کی قربانی کا حکم سوال اگر میں نے زید کو قربانی کا جانور خرید کر دیا  اس حال میں کہ زید خود   بھی صاحب نصاب تھا، توکیا زید کے لیے  اس جانور کی قربانی کرنا  درست ہوگا۔برائے مہربا نی جواب مع حوالہ دیں۔ جواب واضح رہے کہ جو شخص أيام نحر میں…

  • قصائی سے ذبح شدہ بکرا خریدنا

    مسئلہ: کھلے عام قربانی کی اجازت نہ ہو تو قربانی کے لیے قصائی سے ذبح شدہ بکرا خریدنا بعض ممالک جیسے فرانس وغیرہ میں قربانی پر پابندی ہے، البتہ قصائی کی دکان سے ذبح شدہ بکرے مل جاتے ہیں، ایسی صورت میں قصائی کی دکان پر ذبح کیے گئے جانور کو خریدنے سے قربانی کا…

  • سوال     تین بھائی (زید، عمر، بکر) باپ کی زندگی میں  مشترکہ کاروبار میں نفع و نقصان کے شریک رہے۔ زید کو خرید و فروخت کا اختیار حاصل تھا۔ سنہ 1999 تک شرکت ثابت ہے۔ زید نے 1999 سے پہلے جو جنگلات خریدے وہ سب مشترکہ ملکیت میں تھے۔ زید کے انتقال (2012) کے بعد…

  • محرم الحرام کو محرم کہنے کی وجہ

    محرم کو محرم الحرام کیوں کہتے ہیں؟ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ    محرم  الحرام میں لفظ “حرام” حرمت سے ہے،جس کا معنی ہے: “عزت والا،قابلِ احترام۔” چونکہ محرم کا مہینا عظمت و احترام والا ہے ،اس لئے اس مہینے کو محرم الحرام کہتے ہیں ،یعنی عظمت و احترام والا…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *