گیارہ سال کا بچہ طلاق کے بعد ماں کے پاس رہے گا یا باپ کے پاس
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بچہ جس کی عمر تقریبا گیارہ سال ہے باپ نے ماں سے لے لیا ہے اور ماں سے ملاقات بھی نہیں کرواتا(باپ نے ماں کو طلاق دی ہوئی ہے)
بسم اللہ الرحمن ارحیم
الجواب حامدا ومسلیا ومسلما
واضح رہے کہ جب تک بچوں کی عمر سات سال اور بچیوں کی عمر نو سال نہیں ہوجاتی ماں کو ان کی پرورش کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ وہ دوسری جگہ بچوں کے غیر محرم سے شادی نہ کرلے، پس اگر اس نے شادی کرلی تو ماں کا حق ساقط ہوجائے گا ، نیز اگر ماں فسق و فجور یا حرام کاری کے راستہ پر ہو تو اس صورت میں بھی بچوں کی پروش کا حق ساقط ہو جائے گا اور دونوں صورتوں میں بچوں کی نانی کو مقررہ عمر مکمل ہونے تک اپنے پاس رکھنے کا حق ہوگا، البتہ اگر نانی وفات پاگئی ہوں تو بچے دادی کی پرورش میں رہیں گے ، لڑکوں کی عمر جب سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال ہوجائے گی تو باپ کو اپنی اولاد لینے کا شرعی حق ہوگا ۔
شوہر کے لیے شرعاً یہ جائز نہیں ہے وہ بچوں کو ان کی والدہ سے ملنے سے روکے۔اور ایسا کرنے پر وہ ظالم شمار ہو گا۔ والدہ دن میں ایک بار ملاقات کرنا چاہیں تو کرسکتی ہیں اور کم سے کم ہفتہ میں ایک بارملاقات تو کرانا ضروری ہے،۔
“الولد متى كان عند أحد الأبوين لايمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده، كذا في التتارخانية ناقلاً عن الحاوي”.۱۔
(فتاوی عالمگیری ج۱ ص۵۳۹
۲۔ولا یملک احدھما ابطال حق الولد من کونہ عند امہ قبل السبع وعند ابیہ بعدھا
(فتاوی شامی ج۳ ص ۵۷۱)
۳۔ولا یخرج الاب بولدہ بما فیہ من الضرار بالام
(فتاوی شامی ج ۳ ص۵۷۰)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
