طلاق،طلاق،طلاق کہنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا میں تجھے ایک مرتبہ طلاق ،طلاق،طلاق دیتا ہوں ،اب اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب حامدا ومصلیا ومسلما

صورتِ مسئولہ میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، نکاح ختم ہو گیا، بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے،  اب رجوع جائز نہیں، بیوی اپنی عدت (پوری تین ماہ واریاں اگر حمل نہ ہو، اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک عدت)  گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے،  البتہ عدت گزارنے کے بعد بیوی اگر کسی دوسری جگہ شادی کرے اور اس دوسرے شوہر سے صُحبت (جسمانی تعلق) ہو جائے، اس کے بعد وہ دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے  یا بیوی طلاق لے لے  یا شوہر کا انتقال ہو جائےتو اس کی عدت گزار کر اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے، اس کے بغیر دونوں کا آپس میں نکاح کر نا  اور ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں۔

۱،فتاوی ہندیہ میں ہے:

“وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا ویدخل بها، ثم یطلقها أو یموت عنها”.

 ( کتاب الطلاق، الباب السادس،1/535، ط:  زکریاجدید)

۲۔فتاوی شامی میں ہے:

“ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اهـ.”

(باب صریح الطلاق، جلد:3، صفحہ:248، طبع: سعید)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *